بنگلورو،4؍مارچ (ایس او نیوز) بی جے پی رکن اسمبلی بسونا گوڈا پاٹل یتنال کی طرف سے مجاہد آزادی دورے سوامی کے متعلق توہین آمیز بیان بازی کا معاملہ ریاستی اسمبلی اجلاس میں دوسرے دن بھی چھایا رہا اور اس وجہ سے اسمبلی اور کونسل میں کوئی کارروائی نہ چل سکی۔
اسمبلی میں یتنال کو ایوان سے برطرف کرنے کے لئے کانگریس کے مطالبہ کو جیسے ہی اسپیکر نے مسترد کردیا کانگریس نے اپنے مطالبہ پر زور دینے کے لئے ایوان میں دھرنا شروع کردیا۔
اس ہنگامہ آرائی کے درمیان ہی اسپیکر وشویشور ہیگڈے کاگیری نے آئین کا دیباچہ پڑھنا شروع کردیا۔ اس مرحلہ پر بھی اپوزیشن کی طرف سے دھرنا جاری رہا۔ ہنگامہ آرائی اور آئین بچاؤ کی نعرے بازی کے درمیان ہی اسپیکر نے آئین پر بحث کی شروعات کے لئے اپنی طرف سے ابتدائی کلمات کہے اور اس کے بعد انہوں نے اپوزیشن ممبران کے رویہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کا رویہ ان لوگوں نے اپنا یا وہ آئین کی توہین کے مترادف ہے اپوزیشن ممبران کے رویہ سے انہیں بہت دکھ پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ایوان میں جس طرح کا رویہ اپنایا وہ ہر گز قابل قبول نہیں ۔ اس طرح کے رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئین پر بحث کے دوران کانگریس نے جس طرح کا احتجاج کیا ہے وہ اس ملک کے آئین کے معماروں کی توہین ہے۔
انہوں نے اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وہ آئین کی عزت کریں اور ایوان میں اس موضوع پر ہونے والی بحث میں شامل ہوں۔
اس کے بعد انہوں نے کارروائی کو چہارشنبہ کی صبح تک ملتوی کردیا۔ اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے اسپیکر کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ اپوزیشن نے آئین کی بے حرمتی کی ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ اسپیکر نے یتنال کے معاملے پر اگر بحث کی اجازت دی تو کانگریس آئین پر بحث میں حصہ لینے کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئین کے مطابق حلف لینے والا ایک رکن اسمبلی ملک کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ایک معمر مجاہد آزادی کو پاکستان کا ایجنٹ کہتا ہے اورحکومت اس کی باز پرس کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جن لوگوں سے آئین کو خطرہ ہے ان لوگوں کی طرف سے اگر آئین پر بحث کی جارہی ہے تو یہ حیرت کی بات ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ ہندوستان چھوڑوتحریک میں حصہ لے کر دورے سوامی نے جیل کی سزا بھگتی ہے اور اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں انہوں نے پوچھا کہ کیا ایسےمجاہد کو کوئی سر پھرا اگر فرضی مجاہد آزادی کہے تو کیا اس کو برداشت کیا جاسکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ مجاہد آزادی کو پاکستانی ایجنٹ قرار دینے والا اس ملک کا غدار ہے ایسے غدار کے ساتھ وہ اسمبلی مں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ یتنال نے یہ بیان ایوان کے اندر دیا یا باہر، یہ بیان اس ملک کے آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔
یتنال نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں تو انہیں اسمبلی سے جب تک برطرف نہیں کیا جاتا کانگریس ایوان کی کوئی کارروائی چلنے نہیں دے گی۔
سدارامیا نے کہا کہ یتنال کا بیان اس کا عکاس ہے کہ بی جے پی کو اس ملک کے آئین پر یقین نہیں۔